حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مظفرآباد/ 8 اکتوبر 2005ء کا قیامت خیز زلزلہ آزاد کشمیر کی تاریخ کا وہ المناک باب ہے جسے اکیس برس گزر جانے کے باوجود فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ رمضان المبارک کی اس صبح چند لمحوں میں زمین نے وہ منظر دکھایا جسے دیکھنے والوں کے دل آج بھی دہل جاتے ہیں۔ ایک منٹ سے بھی کم وقت میں بستیاں اجڑ گئیں، عمارتیں زمین بوس ہوئیں، ہزاروں خاندان اپنے پیاروں سے محروم ہوئے اور آزاد کشمیر خصوصاً مظفرآباد ایک عظیم انسانی المیے سے دوچار ہوا۔
زلزلے میں دسیوں ہزار قیمتی انسانی جانیں ضائع ہوئیں، جن میں بڑی تعداد معصوم بچوں اور بچیوں کی تھی۔ تعلیمی اداروں میں پڑھنے والے وہ ننھے طالب علم بھی اس سانحے کی نذر ہوئے جن کے ہاتھوں میں کتابیں تھیں اور آنکھوں میں مستقبل کے خواب۔ آج بھی ان خاندانوں کے دل اپنے پیاروں کی یاد میں غمگین اور آنکھیں اشک بار ہیں۔
اس موقع پر آغا سید ذہین علی نجفی نے کہا کہ اکیس برس گزرنے کے باوجود زلزلہ زدہ علاقوں کے مسائل مکمل طور پر حل نہیں ہو سکے۔ بالخصوص آزاد کشمیر کے متعدد تعلیمی ادارے آج بھی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔ کئی مڈل اور ہائی سکول ایسے ہیں جہاں مناسب عمارتیں اور چھتیں تک میسر نہیں، جو اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ حکومت پاکستان زلزلہ زدگان اور بالخصوص تعلیمی اداروں کی بحالی کو اپنی اولین ترجیحات میں شامل کرے۔
انہوں نے کہا کہ اس سانحے کے بعد مختلف حکومتیں آئیں، بڑے بڑے وعدے ہوئے، اعلانات کیے گئے اور دعوے بھی سامنے آئے، لیکن زلزلہ زدگان کی مکمل بحالی کا خواب آج بھی تشنۂ تعبیر ہے۔ اقتدار آنے جانے والی چیز ہے، مگر عوام کے مسائل اور حکمرانوں کی ذمہ داریاں باقی رہتی ہیں۔ جو لوگ آج اقتدار میں ہیں، کل کوئی اور ہوگا، لیکن مظفرآباد اور آزاد کشمیر کے عوام یہیں رہیں گے اور اپنے مسائل کے حل کے منتظر رہیں گے۔
مولانا سید ذہین علی نجفی نے موجودہ اربابِ اختیار، بالخصوص وزیراعظم آزاد کشمیر سے خصوصی اپیل کی کہ مظفرآباد شہر کی حالت پر خصوصی توجہ دی جائے۔ یہ چھوٹا سا شہر ہم سب کا گھر ہے، اس کے بنیادی ڈھانچے، تعلیمی اداروں اور زلزلہ متاثرین کے مسائل کا ازسرنو جائزہ لے کر عملی اور مخلصانہ اقدامات کیے جائیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں اس قیامت خیز زلزلے کو صرف ایک سالانہ برسی، چند بیانات اور فاتحہ خوانی تک محدود نہیں کرنا چاہیے۔ 8 اکتوبر ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ قدرتی آفات کے بعد بحالی صرف عمارتیں تعمیر کرنے کا نام نہیں بلکہ متاثرہ نسلوں کے مستقبل کو محفوظ بنانے کا نام بھی ہے۔ بالخصوص تعلیمی اداروں کی مضبوط اور محفوظ عمارتیں ہماری اولین ذمہ داری ہونی چاہئیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ کس طرح چند لمحوں میں اوپر کی زمین نیچے اور نیچے کی زمین اوپر ہو گئی، مگر زندہ رہنے والوں نے ہمت نہیں ہاری۔ لوگوں نے ایک دوسرے کا سہارا بن کر زندگی کو دوبارہ بحال کیا، بے شمار مخلص افراد، اداروں اور حکومتوں نے اپنی بساط کے مطابق کوششیں کیں، لیکن ابھی بھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔
آغا سید ذہین علی نجفی نے کہا کہ آج اکیس برس بعد بھی 8 اکتوبر کے شہداء ہمیں پکار رہے ہیں کہ ان کے نام پر کیے گئے وعدوں کو عملی جامہ پہنایا جائے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ماضی کی کوتاہیوں کو دہرانے کے بجائے باقی ماندہ مسائل کے حل کے لیے ایک جامع اور مؤثر منصوبہ بنایا جائے، خصوصاً تعلیمی اداروں کو محفوظ، باوقار اور جدید سہولیات سے آراستہ کیا جائے تاکہ زلزلے میں شہید ہونے والے بچوں کے خوابوں کو حقیقی معنوں میں زندہ رکھا جا سکے۔
انہوں نے 8 اکتوبر کے زلزلے میں شہید ہونے والے تمام افراد کے درجات کی بلندی، پسماندگان کے لیے صبر و اجر اور زخمیوں و متاثرین کے لیے اجر و سلامتی کی دعا کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ تمام شہداء کو جوارِ رحمت میں جگہ عطا فرمائے، ان کے درجات بلند فرمائے، تمام ملتِ اسلامیہ بالخصوص پاکستان اور آزاد کشمیر کے عوام کو ہر قسم کی قدرتی آفات، مصائب اور مظالم سے محفوظ رکھے اور ہمارے حکمرانوں کو عوام کی حقیقی خدمت، دیانت اور اخلاص کے ساتھ ذمہ داریاں ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔










آپ کا تبصرہ